حکومت نے وعدے کے مطابق برآمد کنندگان کو 23 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا کر دیئے

اسلام آباد (این این آئی) حکومت نے وعدے کے مطابق برآمد کنندگان کو 23 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا کر دیئے۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی براہ راست اکاؤنٹس میں منتقلی کی تقریب فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ہوئی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر ریفنڈز کی اکاؤنٹس میں براہ راست منتقلی کے عمل کا اجراء کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بجٹ میں کاروباری برادری کے ساتھ کیا گیا ایک اور وعدہ آج پورا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 10 لاکھ روپے تک کے ریفنڈز 15 جولائی 2017ء تک جبکہ اس سے زائد کے ریفنڈز 14 اگست 2017ء تک ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 10 لاکھ روپے تک کے ریفنڈز رواں سال جولائی میں ادا کر دیئے تھے جبکہ اس سے زائد کے ریفنڈز 14 اگست کی مقررہ تاریخ سے قبل آج ادا کئے جا رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مجموعی طور پر 26 ارب 43 کروڑ روپے کے ریفنڈز کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاجر برادری کو ٹیکس ریفنڈز کی مشکلات سے بچانے کیلئے براہ راست اکاؤنٹس میں منتقلی کے حامی تھے اور اس حوالہ سے کوششیں کامیاب ہوئی ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کاروباری برادری کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کریں گے، یہ تمام اقدامات کاروباری برادری کا اعتماد بڑھانے کیلئے ہیں تاکہ وہ ریونیو بڑھانے میں شراکت داری کا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قبل ازیں چیئرمین ایف بی آر طارق پاشا نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریفنڈز کی ادائیگی کے حوالہ سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے تاجروں کا اعتماد بڑھے گا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل نے برآمد کنندگان کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی پر وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ اس اقدام سے ملکی برآمدات کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ کاروباری برادری کے نمائندگان اور ایف بی آر کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے