آرٹیکل 62 ون ایف میں ترمیم کیلئے اپوزیشن سے مل کر بل لایا جاسکتا ہے ٗشاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف میں ترمیم کا بل لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیم کیلئے اپوزیشن سے مل کر بل لایا جاسکتا ہے ٗ وہ 45 دن رہیں گے یا زیادہ، فیصلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کرے گی ٗچوہدری نثار علی خان سے بہترین تعلقات ہیں ٗپیٹرولیم اور پاور کی وزارت کو ضم کردیا ہے ٗپانی کی وزارت کی اشد ضرورت تھی جو ہم نے بنا دی ہے ٗامریکا سے تعلقات بہتر ہیں اور مزید بہتر کرنیکی ضرورت ہے ’اراکین کی خواہش تھی نوازشریف ریلی انکے حلقوں سے گزرے ٗسیکیورٹی خطرات ہر جگہ ہوتے ہیں ٗاگرسیاست میں رہنا ہے تو ان حالات سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے ٗوزیراعظم کی نااہلی بڑا دھچکا ٗ2018 کے انتخابات اپنے وقت پرہوں گے ٗ نواز شریف کے منع کرنے کے باوجود (آج) بدھ کو پنجاب ہاؤس جاؤں گا ٗسیاسی جماعتوں کے درمیان میثاق معیشت بھی ہونا چاہیے، آج گالی گلوچ کی سیاست عام ہوچکی ہے ٗ لوگ اسے پسند نہیں کرتے ٗنومبر 2017 تک لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی ٗملک میں عام شہری کے پاس خودکار ہتھیار نہیں ہونے چاہیے۔ منگل کو نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ بڑی ذمہ داری ہے ٗیہ کبھی میری خواہش نہیں رہی یہ پارٹی کا فیصلہ ہے ٗ انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے خود میرا نام تجویز کیا اور سب نے اس کی تائید کی انہوں نے کہاکہ نواز شریف میرے اور پارٹی کے لیڈر ہیں ٗمیں45دن کیلئے ہوں یا 10ماہ کیلئے ہوں ٗ یہ فیصلہ پارٹی کریگی اور یہ کرسی پارٹی کی ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ معاملات کو صحیح انداز میں چلانا ہے تو کابینہ بڑ ی ہونی چاہیے ٗ یہ تاثر غلط ہے کہ وزراء کم ہونے چاہئیں یہ ممکن نہیں ٗ انہوں نے کہاکہ ہر محکمے اور ڈویژن میں سینکڑوں اربوں روپے کے فیصلے ہوتے ہیں ٗ وزیر کی تنخواہ اور مراعات تین لاکھ روپے کے قریب بنتی ہیں ٗ وزیر ایک بھی فیصلہ درست کر دے تو خرچے پورے ہو جاتے ہیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جمعہ کو حکومت گئی ور اس کے بعد کوئی ایم این اے کہیں نہیں گیا اور ایم این اے خود آئے اور ووٹ دیئے ٗکچھ ایم این اے امریکہ میں تھے جو وہاں سے پاکستان پہنچے اور ووٹ ڈالا ۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ پارٹیاں چھوڑتے ہیں یا ایسے مواقع پر خرابیاں پیدا کرتے ہیں ان کی سیاسی جماعتوں میں جگہ زیادہ دیر تک نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)کو چھوڑ نے کیلئے کسی ایم این اے کو کوئی فون نہیں آیا ۔ وزیر خارجہ کی تعیناتی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا تیس سال کا تجربہ ہے ٗ دنیا کے کسی وزیر اعظم یا صدر کے ساتھ بیٹھتے تھے تو ایسے بات کرتے تھے جیسے ہم کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف پاکستان کے کامیاب ترین وزیر خارجہ ہونگے انہوں نے کہاکہ دنیا کو جس طرح کے وزیر خارجہ کی ضرورت ہے اس معیار پر خواجہ آصف پورا اترتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانا ہے ٗ سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ٗچین کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے ٗ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتر آئی ہے ٗامریکہ میں بھی تبدیلی آئی ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائینگے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانا پاکستان کے حق میں ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو اس وقت سی پیک کی نگرانی خود وزیر اعظم آفس کررہا تھا اب بھی ہم نے یہی سمجھا کہ اس کی نگرانی وزیر اعظم آفس کرے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار علی خان سے میرے تعلقات سب کے سامنے ہیں ٗ ہم تیس سال سے سیاست میں ہیں ٗ جب میری وزارت عظمیٰ کا فیصلہ ہوا تو چوہدری نثار علی خان کی تائید شامل تھی انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار علی خان نے مجھے بتایا کہ میں اعلان کر چکا ہوں میں وزارت نہیں لونگا اگر میری ضرورت ہو تو سو فیصد ساتھ ہوں ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن کے بہت پرانے الزامات ہیں ابھی کچھ لوگ باتیں کررہے ہیں ٗ اگر ایل این جی نہ لاتے تو بجلی میں بہتری نہیں لائی جاسکتی تھی انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے فوائد سینکڑوں ارب روپے کے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قطر سے سب سے کم قیمت پر ایل این جی حاصل کررہے ہیں ہم سالانہ 2.75بلین ٹن کی ایل این جی قطر سے لے رہے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سیاست میں آنے سے پہلے میرے اثاثے کئی گنا زیادہ تھے اب کم ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم ہاؤس منتقل نہ ہونے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ کام کر نے کے بعد سکون کی نیند گھر میں ہی آتی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے کہا تھا کہ جب میں جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جاؤں تو آپ نہ آئیں وہ میرے لیڈر ہیں ان کی روانگی کے موقع پر پنچاب ہاؤس ضرور جاؤنگا ۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے ساتھ جو بھی لوگ جائینگے وہ اپنے علاقے تک جائیں گے پھر واپس آ جائینگے انہوں نے کہاکہ وزراء کو کام مکمل کر نے کا ٹارگٹ دیا ہے ٗ وزراء کا کام چوبیس گھنٹے کا کام ہے اگر وزراء آٹھ ٗ دس گھنٹے سیاسی کاموں میں گزار لیں تو کوئی حرج نہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پٹرولیم اور پاور کی وزارت کو ضم کر دیا ہے پانی کی وزارت کی بہت ضرورت تھی جو ہم نے بنا دی ۔نواز شریف کے جی ٹی ر وڈ کے ذریعے لاہور جانے کے حوالے سے سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ سکیورٹی رسک ہر جگہ ہے اسے مینیج کرنا پڑتا ہے ٗجتنا بڑا لیڈرہوگا اتنے سکیورٹی خدشات زیادہ ہونگے انہوں نے کہاکہ سکیورٹی خطرات ہر جگہ پر ہوتے ہیں اگر سیاست میں رہنا ہے تو ان حالات سے مقابلہ کر نا ہوتا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے اپنی ایک رائے عوام کے سامنے رکھی ہے ٗسازشوں کا مقابلہ سیاست اور عوامی خدمت سے ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ سازش کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگ جونہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی نہ کرے ان کا مقابلہ سیاست سے ہوتا ہے ٗنواز شریف آج کرسی پر نہیں ان کی پالیسیاں جاری ہیں اور انشاء اللہ پاکستان ترقی کریگا ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک پراسس کو ڈی ریل کرنے کی سازش کی گئی تھی، جس معاملے سے ملک کا نقصان ہو اس کو سازش ہی سمجھا جائیگا، جو لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے وہ سازش کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1999میں جب آمر کی حکومت آئی پھر جمہوری حکومت آئی میں نے دونوں ادوار میں رہنے والے افراد کو چیلنج کیا ہے کہ آپ اپنے ادوار کا ایک منصوبہ دکھادیں جو اپنے مفاد میں کیا ہو ۔انہوں نے کہاکہ سب سے آسان کام تنقید کر نا ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ میں نہیں کہتا ہے کہ ہر مسئلہ حل ہوگیا ہے لیکن ملک میں بہتر ی ضرور آئی ہے جن کی لمبی فہرست ہے انہوں نے کہاکہ نواز شریف کوئی احتجاج نہیں کررہے ہیں سابق وزیر اعظم اپنے گھر جارہے ہیں یہ تمام این اے ایز کی خواہش تھی کہ وہ ہمارے حلقوں سے گزر کر جائیں ۔انہوں نے کہاکہ لوگ اپنی پارٹی سے اظہار یکجہتی کر نا چاہتے ہیں ٗ پارٹی کے حق میں نعرے لگیں گے سکیورٹی کو مینیج کیا جارہا ہے اور انشاء اللہ تمام معاملات خوش اسلوبی سرانجام پائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی نا اہلی بہت بڑا دھچکا تھا ٗمعاملات چل رہے ہیں ٗ سپیڈ کم ہوئی ہے اسے بڑھنے میں تھوڑا وقت لگے گا انہوں نے کہاکہ 1018میں الیکشن وقت پر ہونگے اور مسلم لیگ (ن)کامیابی حاصل کریگی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ 1999ء کے بعد پانچ وزیر اعظم رہے ٗ انہوں نے کیا کیا ؟ نوازشریف نے کیا کیا ہے اس کو پورے پاکستان نے دیکھا ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے پارلیمنٹ کے وقار اورسیاست کے وقار کو بحال کر نا ہے اس وقت سیاست ملک میں گالی بن چکی ہے اس میں سیاستدانوں کا قصور ہے ٗ یہ کام کس نے شروع کیا ہے سب عوام کے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ میثاق جمہوریت کی طرح ڈائیلاگ ہونا چاہیے کہ ملک میں سیاست کس طرح کرنی ہے انہوں نے کہاکہ تنقید ضرور کریں مگر شائستگی کے عمل کو نہیں چھوڑنا چاہیے انہوں نے کہاکہ گالی گلوچ کی سیاست کو لوگ پسند نہیں کرتے آپ اس کا مظاہرہ ضمنی الیکشن میں دیکھا ہے اور آئندہ الیکشن میں بھی دیکھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی جماعتوں کیساتھ ڈائیلاگ کرینگے مجھے امید ہے تمام سیاستدان ساتھ دینگے جو بھی ترمیم کی ضرورت ہوگی تو ہم کرینگے ۔ انہوں نے آرٹیکل 62 ون ایف میں ترمیم کا بل لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں ترمیم کیلئے اپوزیشن سے مل کر بل لاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کا تعلق صادق اور امین ہونے سے ہے، سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی نااہل قرار دیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر ابہام ہے۔ایجو کیشن فیڈرل محکمہ نہیں ہے مگر فیڈرل منسٹری ضرور ہے ٗ ہم ایجو کیشن کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کرینگے ٗکوئی بھی ملک ایجو کیشن کو بہتر بنائے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ۔انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ نومبر 2017کے بعد ملک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ٗمشکلات مقامی سطح پر ضرور ہوسکتی ہیں مگر لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کوئی ایسا ملک نہیں جو آٹو میٹک اسلحے کا لائسنس دیتا ہوں ٗ امریکہ میں بھی آٹو میٹک اسلحہ لائسنس نہیں ہوتا ٗ ملک میں عام شہری کے پاس آٹو میٹک اسلحہ نہیں ہونا چاہیے اور میری کوشش ہوگی کہ ہم اس لعنت کو دور کر نے میں قابل ہو جائیں گے ۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ عدالتی حکامات پر عمل کر نا حکومت کا کام ہے ٗ منتخب وزیر اعظم کی نا اہلی کا فیصلہ ہوا تو عمل کر دیا یہ الگ بات ہے کہ ہمیں فیصلے پر اختلافات ہیں انہوں نے کہاکہ اگر کوئی عدالت پرویز مشرف کے خلاف آرڈ ردیتی ہے تو اس پر عمل کیا جائیگا ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جیل میں تقریباً دو سال گزارے ٗ کراچی میں جیل کے اندر ایک چھوٹی جیل تھی جس میں میں اور نوازشریف تھے ٗ نوازشریف نے بڑے وقار کے ساتھ جیل کاٹی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے